خلوتوں میں تیری دن رات رہا کرتا تھا
Wednesday, 17 April 2013
خلوتوں میں تیری دن رات رہا کرتا تھا
جستجو میں تیری اشعار کہا کرتا تھا
دل اسیر کی حسرت نے خوب خوار کیا
صبح سے شام بس اک زہر پیا کرتا تھا
خواب سرہانے تیری یاد کے رکھ کر اکثر
دُكتى سانسوں سے میں گھبراه کے اُٹھا کرتا تھا
بھیگتی آنکھوں کے دُکھ کو وه بھلا کیا جانے
میں تو اک دن میں کئی بار مرا کرتا تھا
یاد اسکی جو چلی آتی تھی تنہائی میں
اپنی ہی ذات سے خائف میں رہا کرتا تھا
نیند سے آنکھ کا رشتہ,کبھی سمجھا ہی نہیں
رات بھر چھت کو میں بےوجہہ تکا کرتا تھا
کرب آوڑھے جو گذرتے تھے میرے دن اکثر
شب کے پیچھلے پہر اک تیری دعا کرتا تھا
یہ بدن قید سے آزاد ہوا ہی کب تھا
بس سسکتا تھا,مچلتا تھا جلا کرتا تھا
متاعِ سفر میں خوشبو کا بھنور شامل تھا
رستِے زخموں کو سرشام سیا کرتا تھا
پیاس بخشی جو تیری سوچ جواں نے مجھکو
خاک زادوں کی میں دستار بنا کرتا تھا
کسقدر تلخ رہا کرتی تھیں یادیں اسکی
کیسے مر مر کے میں ہر روز جیا کرتا تھا
اک جھلک تیری میسر جو کبھی ہو جاتی
سجده شکر میں اسرار رہا کرتا تھا
اسرارالحسن
Labels: Asrar Hassan, Author, Ghazal
posted by Nayyar Julian @ 02:25,
0 Comments:



Post a Comment