اک طرفہ تماشا ھے---- جاوید انور
Sunday, 3 March 2013
شرافت پھر سے کپڑے اتار کر
بیچ بازار حبیب جالب کی نظمیں گا رہی ہے
کئ کالم نگار میڈیا سیل کی سولی پر لٹکے
اپنی ابلی زبانوں سے لفظوں کی قے کر رہے ہیں
گھوڑے اپنے اپنے تھان پر ہیجان کا شکار
اقتدار کی ڈگڈگی پر ناچنے کی موہوم خواہش میں
اپنے اپنے رسے کا دوسرا سرا بدلنے کے عمل میں مصروف ہیں
انصاف کی ایک ہی آنکھ ہے
اس کی دوسری آںکھ بریف کیس میں کھو گئ ھے
اقتدار کے ایوانوں میں بے بسی بال کھولے رو رہی ہے
سب سے اوپر والے جھروکے میں کوئ اپنے بندھے ہاتھوں سے
مستقبل کی گرہیں کھولنے کی آخری کوشش کر رہا ہے
دیواروں اور سڑکوں پرچیتھڑوں سے تخلیق ہونے والے
تجریدی آرٹ کی نماۂش جاری ہے
گولیاں اپنے نشانوں کے تعاقب میں ہیں
اور بوریوں پر بدستور سرخ نقشے ابھر رہے ہیں
میچ فکسنگ نے کرکٹ میں ایک نئ دلچسپی پیدا کر دی ہے
جبہ و دستار نیلام گھر کی سیڑھیوں پر ٹنگے
بھری جیبوں والے پرستاروں کے منتظر ہیں
نقطہٴ صفر کی اونچی دیواروں کے پیچھے
سٹریٹجک منصوبوں پر مہروں کی نشست و برخواست،
آخری مراحل میں ہے
اور خلق خدا نفرتوں کےلاوٴڈ سپیکر پر اپنے ماتم کی موسیقی سننے میں مگن ہے
شیطان اس کے انہماک پر نازاں،
اپنی کامیابی کے نشے میں چور ہے
Labels: Ghazal, Javed Anwar
posted by Nayyar Julian @ 22:36,
0 Comments:




Post a Comment